اتوار, ستمبر 19, 2021
spot_img

ہمیں لاک ڈاؤن کرکے اپنی معیشت کو کسی صورت تباہ نہیں کرنا، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں لاک ڈاؤن کرکے اپنی معیشت کو کسی صورت تباہ نہیں کرنا۔ 

عوام کے سوالات کے براہ راست جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کورونا کی چوتھی لہر آئی ہوئی ہے، کورونا وائرس کی بھارتی قسم سب سے زیادہ خطرناک ہے، یہ بہت تیزی سے پھیلتی ہے، ماسک کے استعمال سے کورونا  وائرس پھیلنے شرح کم ہوجاتی ہے، سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ ٹھیک ہےکیونکہ اس سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کم ہوجاتی ہے۔ لاک ڈاوَن لگانا ہے تو ہمیں دوسری طرف بھی دیکھنا ہے، اگر لاک ڈاوَن  ہو تو دیہاڑی داراور مزدور  طبقہ کہاں جائے گا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری معیشت اوپر جارہی ہے، ہم نے درست فیصلے کرکے اپنی معیشت اور عوام کو بچایا ہے، ہمیں کسی صورت لاک ڈاوَن کرکے اپنی معیشت کو تباہ نہیں کرنا، جب تک بچوں اور اساتذہ کی ویکسی نیشن نہ ہو اسکو ل نہ کھولے جائیں۔

’سب سے بڑا مسئل مہنگائی‘

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جس پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں، قیمتیں کم کرنے کی کوشش کررہےہیں، تنخواہ دار طبقے کے لیے واقعی یہ مشکل وقت ہے۔ روپے کی قدر میں کمی آئی تو ساری چیزیں مہنگی ہوگئیں، ہمارے ملک میں کسان کو کم پیسے ملتے ہیں اور یہ بازاروں میں مہنگے داموں بکتی ہیں، پاکستان سب سے سستا ملک ہے، بدقسمتی سے ہمیں پیٹرول مہنگا کرنا پڑتا ہے، پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے ہے،اس کے باوجود تیل درآمد کرنے والے تمام ملکوں سے سب سےسستا پیٹرول اور ڈیزل ہمارے ملک میں ہے۔ اس بارپاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا ہے، جس طرح ٹیکسوں کی صورت میں آمدنی بڑھتی جائے گی ہم تنخواہ دار طبقے کی مشکلات کو حل کریں گے۔

’ریاست مدینہ میں 5سال تک حالات بہت برے تھے‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ کے راستے پر چل رہے ہیں، ریاست مدینہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی، مدینہ کی ریاست کا پہلا اصول نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا تھا، ریاست مدینہ میں قانون کی حکمرانی تھی، پہلے 4 میں سے 2 خلیفہ وقت عدالت میں کھڑے ہوئے، آپ کو سمجھنا ہوگا ریاست مدینہ میں 5 سال تک حالات بہت برے تھے، ہمارا سارا زور ھلاحی ریاست کے قیام پر ہے، جن صوبوں میں ہماری حکومت ہے وہاں ہر خاندان کو ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں، ہم اب تک 22 پناہ گاہیں بناچکے ہیں، اس کے علاوہ 11 مزید بننے جارہی ہیں، کامیاب پاکستان پروگرام سب سے بڑا منصوبہ ہے، اس پروگرام کے تحت غریب خاندان کے ایک فرد کو ٹیکنیکل ایجوکیشن دیں گے، پروگرام کے تحت بلاسود قرضے بھی فراہم کریں گے، 40 فیصد خاندانوں کو فوڈ آئٹمز پر سبسڈی دیں گے۔

’قانون کی حکمرانی کی جنگ لڑرہے ہیں‘

وزیر اعظم نے کہا کہ کرپٹ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا، چھوٹی سطح پر کرپشن ملک کو تباہ نہیں کرتی ، بڑی سطح پر موجود لوگوں کی کرپشن سے ملک تباہ ہوتا ہے، ہم قانون کی حکمرانی کی جنگ لڑرہے ہیں، کرپشن کےخلاف جنگ پاکستان کی ہے، قانون کی حکمرانی سے ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے، ہر سال غریب ملکوں سے ایک ہزار ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے امیر ملکوں میں چلا جاتا ہے، یہی وجہ سے غریب ملک غریب اور امیر ملک اور امیر ہوتے جارہے ہیں۔ یہ لوگ بلیک میل کرتے ہیں کہ اگر ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو وہ حکومت گرادیں گے۔ ماضی میں سیاسی بھرتیاں کرکے ملک کو تباہ کیا گیا، آزاد کشمیر میں جو سیاسی بھرتیاں کی گئیں اس  پر نظرثانی کریں گے.

’الیکٹرک ووٹنگ مشین سے دھاندلی کا مسئلہ ہوسکتا ہے‘

دھاندلی سے برسر اقتدار  آنے کے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب کرکٹ کھیلتا تھا تب ہارنے والی ٹیم کہتی تھی دھاندلی ہوئی ہے، بھارت پاکستان اور پاکستان بھارت میں نہیں جیتتا تھا، ہم نے نیوٹرل امپائرنگ کی بات کی، یہ پہلی حکومت ہے جو کہہ رہی ہے الیکٹرانک ووٹنگ  سسٹم لایا جائے، الیکٹرک ووٹنگ مشین سے انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ ہوسکتا ہے، اس سے فوری رزلٹ سامنے آجائے گا لیکن اپوزیشن نہ خود کوئی تجویز دیتی ہے اور نہ وہ ہماری بات مانتے ہیں۔ آزاد کشمیر الیکشن میں تمام ٹیم اپوزیشن کی تھی تو دھاندلی کیسے ہوگئی، وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر وزیراعظم نے دھاندلی کا الزام لگایا۔

’نور مقدم کیس میں سزا ملے گی‘

نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ نور مقدم کیس کو پہلے دن سے خود دیکھ رہا ہوں، اس واقعے سے سب کو صدمہ پہنچا ہے، میں نے تمام تفصیلات لی ہیں، اس کی ایک ایک چیز کا مجھے پتا ہے۔ یہ بڑا خوفناک قسم کا کیس ہے، اس سے پہلے افغان سفیر کی بیٹی سے حادثہ ہوا تھا کہ اس کو کسی نے مارا ہے۔ میں نے اس کیس کو بھی اسی طرح دیکھا جیسے وہ میری بیٹی ہو۔ افغان ہمارے اپنے لوگ ہیں، ہم انہیں اپنے بھائی سمجھتے ہیں۔ میں پولیس کو داد دوں گا کہ انہوں نے اس کی ایک ایک چیز کی تفتیش کی۔ اسی طرح نور مقدم کیس میں بھی ایک ایک چیز کی تفتیش کر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑی ٹریجڈی ہے۔ میں آپ سب کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کوئی طاقتور سے بھی طاقتور ہو، اس کو اس کیس میں سزا پوری ملے گی۔

’2 سال کھیلوں پر لگاؤں گا‘

کھیلوں میں زبوں حالی کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ اسپورٹس میں پی ایچ ڈی ہوں، مجھے کھیلوں کو جو وقت دینا چاہیے تھا وہ نہیں دے سکا، جب ہم اقتدار میں آئے تو معیشت سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا تھا، جس ملک میں ادارے بہتر ہوتے ہیں وہاں کھیلوں کے میدان میں بھی ترقی ہوتی ہے، نظام کو تباہ کرنے میں وقت نہیں لگتا لیکن اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے، آخری 2  سال میں پورا زور اسپورٹس پر لگاوَں گا۔

’آزادی رائے ملک کے لئے بہت بڑی نعمت‘

وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کو توڑنے والے اور قانون کی بالادستی سے ڈرنے والے سربراہان آزاد میڈیا سے ڈرتے ہیں، اگر میں نے لندن میں فلیٹ بنائے ہوں تو سارا وقت آزاد میڈیا سے ڈروں گا، آزادی رائے اس ملک کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ میڈیا سے تب اختلاف ہوتا ہے جب غلط خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔

’سعودی عرب کی جانب سے سفری پابندیاں‘

وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی وزیرخارجہ سے سفری پابندیوں سے متعلق بات کی ہے،انہوں نے یقین دلایا کہ اس معاملے کو جلد حل کرلیا جائے گا، بیرون ملک مقیم پاکستان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، سابق حکمران 20 ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑا ، اتنے ضسارے میں تو ہمارا ملک دیوالیہ ہوجاتا تھا لیکن سمندر پار پاکستانیوں نے ریکارڈ زرمبادلہ بھیجا، کوشش ہےکہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کریں۔

’معذور افراد کو کوٹہ ملنا چاہیے‘

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ معذور افراد کو تمام محکموں میں کوٹہ ملنا چاہیے، 18ویں ترمیم کے بعد زیادہ تر محکمے صوبوں کے پاس ہیں، صوبوں کوہدایات دوں گا کہ ہر محکمے میں معذوروں کے لئے کوٹہ مختص کریں۔

’2 خاندانوں نے ملک کے ادارے تباہ کئے‘

وزیر اعظم نے کہا کہ 2 خاندانوں نے ایک جانب پیسے لوٹے اور دوسری طرف انہوں نے ادارے تباہ کئے، انہوں نے نیب میں اپنا آدمی بٹھا کر ملک کو بے دردی سے لوٹا، پہلی دفعہ نیب نے بڑے بڑے ناموں کو پکڑا ہے، نیب پہلے چھوٹےچھوٹے لوگوں کو پکڑتاتھا، اب اسی نیب کے ہوتے ہوئے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

’تمام لوگ کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں‘

وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں تمام پاکستانیوں سےملک میں ایک ایک درخت لگانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو 12موسموں سےنوازا ہے، ہم نے بےدردی سے ملکی جنگلات کوتباہ کیا، پاکستان میں دس ارب درخت انے والی نسلوں کے لئے لگا رہے ہیں۔

Related Articles

Stay Connected

0FansLike
2,944FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles